Urdu Press Release & Photo Set 27.12.2022

مؤرخہ27دسمبر2022ء
فیصل آباد( )    ٹیکس میں چھوٹ اور خام مال کی فراہمی کیلئے آسانیاں پیدا کر کے فونڈری اور زرعی آلات بنانے والی مقامی صنعت کے برآمدی پوٹینشل سے بھر پور فائدہ اٹھایاجا سکتا ہے تاہم اس کیلئے اس سیکٹر میں فوری اور جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے فیصل آبا د فونڈری اونرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران بتائی۔ وفد میں فونڈری اور الائیڈ انجینئرنگ کے چیئرمین محمد اشفاق اشرف اور زرعی انجینئرنگ بارے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عطا ء اللہ، ایگزیکٹو ممبر حاجی عبدالرؤف، حاجی محمد اسماعیل، جلیل ملک، عبدالرزاق، ثناء اللہ، رضوان احمد، محمد عابد اور محمد یوسف بھی شامل تھے۔ صدر نے فونڈری کو تمام صنعتوں کی ماں قرار دیا اور کہا کہ اِس کو ترقی دے کر ہی ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔ انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پر ٹیکس لگا کے زراعت سے متعلقہ صنعت کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زرعی پیداوار بھار ت کے مقابلہ میں نصف اور دنیا سے کئی گنا کم ہے مگر اِس کے باوجود اس کے پوٹینشل سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے مختصر المدتی سوچ کو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ جب تک ہم پاکستان کیلئے جامع اور طویل المدتی حکمت عملی نہیں اپنائیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہو ں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ٹریکٹر پر زیرو ڈیوٹی ہے مگر زرعی آلات بنانے والی دیگر صنعتوں سے پورا سیل ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زیر و ریٹڈ صنعتوں سے پہلے ٹیکس وصول کرنے اور پھر اس کے ری فنڈ کو”گھن چکر“قرار دیا اور کہا کہ 200ارب کے سیل ٹیکس میں سے 100ارب فراڈیئے لے جاتے ہیں جبکہ اُن کا حساب بھی دوسروں کو دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ  سے قبل وہ پاکستان فونڈری ایسوسی ایشن کے صدر عاصم قادری کے تعاون سے ملکر اس شعبہ کیلئے حکمت عملی وضع کر لیں گے۔ کراچی سٹیل ملز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بظاہر اس کی بحالی ممکن نہیں تاہم اس کو فروخت کر کے اس قسم کی دو نئی سٹیل ملیں لگائی جا سکتی ہیں تاکہ اندرون ملک صنعتوں کو ڈھلائی کیلئے خام لوہا مہیاکیا جا سکے۔ انہوں نے ہارڈ کوک کی فراہمی کیلئے بھی فوری اقدامات کرنے کا یقین دلایا اورکہا کہ چنیوٹ کے نزدیک سے بھی خام لوہے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کیلئے وہاں سٹیل مل لگانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ امریکہ  کے شہر لوزینا کا سب سے بڑا کین کرشر پاکستان کا بنا ہوا ہے اگر ہمارے لوگ یہ تیار کر سکتے ہیں تو وہ دیگر مشینری بھی تیار کر کے دنیا کو برآمد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری گروتھ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اپنا چالیس پچاس سال کا تجربہ نئی نسل کو منتقل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری آپ کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیارہے۔ اس سے قبل اشفاق اشرف نے بتایا کہ فیصل آباد میں زرعی آلات اور لال پمپ کے علاوہ ٹیکسٹائل سمیت سٹون کرشر مشینری کے پرزے تیار کئے جا رہے ہیں تاہم اس شعبہ میں جدت نہیں لائی جا سکی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز دس سال سے بند ہے جس کی وجہ سے انہیں خام مال کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان فونڈری اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم قادری آئندہ ہفتے فیصل آباد آرہے ہیں۔ اِس دوران اُن کی فیصل آباد چیمبر کے صدر سے ملاقات کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر نائب صدر حاجی محمد اسلم بھلی بھی موجود تھے۔

Leave a Reply