Urdu Press Release & Photo Sets 25.10.2022

مؤرخہ 25 اکتوبر2022ء
 فیصل آباد ( )    بیلارس پاکستان میں ٹریکٹروں اور پرزوں کی تیاری کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کیلئے تیار ہے جبکہ دو طرفہ تجارت بڑھانے کیلئے فیصل آباد کے ٹیکسٹائل شعبہ کیلئے مصنوعی یارن اور فائبر بھی درآمد کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات  پاکستان میں تعینات ڈپٹی ہیڈ آف مشن بیلارس مسٹر الیا کانا پلیو نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم بہت کم ہے جسے بڑھانے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے تحت ایک وفد منسک (Minsk)جا رہا ہے جہاں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی ایکسپو میں شرکت کرے گا۔فیصل آباد چیمبر کے ممبرز بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال فوڈ ایگزی بیشن بھی ہوگی جس میں فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کو بھی شرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ بیلارس کی کیمیکل کی صنعت نے بھی زبردست ترقی کی ہے جو مصنوعی یارن اور فائبر بھی تیار کر رہی ہے جبکہ اس کی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا سے قبل پاکستان ہر سال دو سے تین ہزار ٹریکٹر درآمد کرتا تھا مگر اَب ہمیں ڈسٹری بیوٹر نہیں مل رہا۔ جبکہ ان کی مقامی طو رپر تیاری کیلئے مشترکہ منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر الیا نے کہا کہ اس وقت 30-40پاکستانی طلبہ بیلا رس میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ Exchangeپروگرام کے تحت اِن کی تعداد کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ شنگھائی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور بیلارس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینکو(Aleksandr Lukashenko)کے درمیان ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے اقدامات پر غور کرے گا۔ سفید چنوں کی درآمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر الیا نے کہا کہ مغرب اور امریکی پابندیوں کی وجہ سے بہت سی اشیاء برآمد نہیں کی جا سکیں تاہم زمینی روٹ کے ذریعے افغانستان اور ایران کے راستے تجارت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے زوم پر B2Bمیٹنگ کرانے کی بھی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس کے ذریعے دونوں ملکوں کی بزنس کمیونٹی کے درمیان براہ راست رابطوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بینکنگ چینلز کو بہتر بنانے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ڈاکٹرخرم طارق نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر کا مختصر تعارف پیش کیا اور کہا کہ حالیہ سیلاب نے ملکی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے تاہم پوری قوم وطن عزیز کی از سر نو تعمیر کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری متاثرین کی بحالی کیلئے دور دراز علاقوں میں ایف سی سی آئی ٹاؤن تعمیر کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں دس ہزار ایکڑ پر ملک کی سب سے بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جا رہی ہے جہاں بیلارس ٹریکٹر اسمبلی پلانٹ کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی مشترکہ منصوبے شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیلارس نے یوکرین کے سرحدی علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیئے ہیں جہاں زخمیوں کی طبی امداد مہیا کی جا رہی ہے۔ بیلا رس کے قونصلرمسٹر لیا نیڈ ہولوب نے جنگ کی وجوہات پر مختصراً روشنی ڈالی اور کہا کہ پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں سابق نائب صدر بلال وحید شیخ، اظہر چوہدری، محمد طیب، سیف القہار، محمد فاضل، میاں عبدالوحید، سہیل بٹ اور دیگر ممبران نے حصہ لیا۔ جبکہ صدر ڈاکٹر خرم طارق نے بیلارس کے ہیڈ آف مشن مسٹر الیاکانا پلیو کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ  پیش کی۔آخر میں سابق صدر سید ضیاء علمدار حسین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply